شہری مردوں میں رات کو بار بار جاگنے کی اصل وجہیں

مرد سو رہا ہے

کراچی کے کسی دفتر میں شام ۷ بجے تک کام کریں، گھر لوٹنے میں ٹریفک میں گھنٹہ گزاریں، کھانا کھائیں اور سونے کی کوشش کریں — لیکن رات ۲ بجے اچانک آنکھ کھل جائے۔ یہ تجربہ پاکستانی شہری مردوں میں غیر معمولی نہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ۱۲ فیصد نیند کی خرابی کے خطرے میں ہے، اور شہری مرد اس میں ایک مخصوص طبقہ ہیں۔

کارٹیسول کی رات کی چوٹی: ایک خاموش مسئلہ

کارٹیسول ایک ہارمون ہے جو تناؤ کے وقت بڑھتا ہے۔ فطری طور پر یہ صبح کے وقت اپنی چوٹی پر ہوتا ہے تاکہ جسم دن کے لیے تیار ہو، اور رات کو کم ہو جاتا ہے تاکہ گہری نیند ممکن ہو۔ لیکن کراچی اور لاہور کے مصروف مردوں میں یہ سائیکل الٹ جاتا ہے۔

دن بھر دفتر کا دباؤ، ٹریفک کا تناؤ اور گھریلو فکریں کارٹیسول کو شام تک بلند رکھتی ہیں۔ ایک پاکستانی ہیلتھ پیج کی تحقیق بتاتی ہے کہ "نائٹ کارٹیسول سرج" — یعنی رات کے وسط میں کارٹیسول کا اچانک بڑھنا — دائمی تھکاوٹ اور بار بار جاگنے کی ایک اہم لیکن کم تشخیص شدہ وجہ ہے۔

رات کو جاگنا اکثر "ہلکی نیند" کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ جسم کی انتباہی حالت کا اشارہ ہے — جیسے الارم بج رہا ہو لیکن آپ کو معلوم نہ ہو کیوں۔

اسمارٹ فون اور میلاٹونن کا تعلق

پاکستان کے یونیورسٹی طلبہ پر ہونے والی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ اسمارٹ فون کا بہت زیادہ استعمال نیند میں خلل کا ایک اہم سبب ہے۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ کو یہ سمجھنے سے روکتی ہے کہ رات ہو گئی ہے، اور میلاٹونن — وہ ہارمون جو نیند لاتا ہے — پوری طرح نہیں بڑھ پاتا۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی بستر پر لیٹتا ہے لیکن نیند آنے میں دیر لگتی ہے، اور جب نیند آتی ہے تو وہ کم گہری ہوتی ہے۔ رات کے پہلے ۳ گھنٹے جو سب سے گہری نیند کے ہوتے ہیں — وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔

عملی اعداد و شمار

  • کراچی کے نوجوان مردوں کی اوسط نیند: ۷.۳ گھنٹے — جب کہ تجویز ۷–۹ گھنٹے ہے
  • ۶۸ فیصد شہری مرد سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تک فون استعمال کرتے ہیں
  • اسمارٹ فون کی لت والے افراد میں نیند آنے کا وقت اوسطاً ۴۷ منٹ زیادہ ہوتا ہے

شہری شور اور نیند کا رابطہ

کراچی اور لاہور میں رہنے والے جانتے ہیں کہ رات کے ۱۲ بجے بھی ٹریفک کی آواز آنا معمول ہے۔ ماحولیاتی شور نیند کی گہرائی کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر "سلو ویو سلیپ" مرحلے کو جو جسمانی بحالی کے لیے سب سے ضروری ہے۔ کمرے میں باہر کی روشنی کا داخل ہونا بھی اتنا ہی نقصاندہ ہے جتنا شور۔

مشترک رہائش اور نیند

پاکستانی شہروں میں بہت سے نوجوان مرد ہاسٹل یا مشترک گھروں میں رہتے ہیں جہاں نجی جگہ کم ہوتی ہے۔ یہ صورتحال نیند کی حفاظت — یعنی نیند کے لیے مخصوص، آرام دہ ماحول — کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

فجر کی نماز اور نیند کی ساخت

ایک دلچسپ پہلو: کراچی کے نوجوانوں پر ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ جو لوگ فجر کی نماز باقاعدگی سے پڑھتے ہیں ان کی نیند کا معیار ان لوگوں سے بہتر ہوتا ہے جو یا تو نماز نہیں پڑھتے یا بے قاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مقررہ وقت پر اٹھنا جسم کی اندرونی گھڑی — سرکیڈین تال — کو منظم رکھتا ہے۔

خلاصہ: اصل مسائل کیا ہیں؟

  • کارٹیسول کا رات کو بلند رہنا
  • سونے سے پہلے اسمارٹ فون کا استعمال
  • شہری شور اور روشنی
  • بے قاعدہ سونے اور جاگنے کا وقت
  • دیر سے کھانا اور کیفین کا زیادہ استعمال
  • نیند کے لیے غیر موزوں ماحول

اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ تناؤ رات کے دوران جسمانی بحالی کو کس طرح روکتا ہے — اور اس کا عملی حل کیا ہو سکتا ہے۔

ماخذ