بہت سے پاکستانی مرد ۷ گھنٹے سونے کے بعد بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں۔ صبح کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے: "آج رات کو نیند آئی تھی، پھر بھی اتنا تھکا ہوا کیوں ہوں؟" اس کا جواب نیند کی مقدار میں نہیں، نیند کے معیار میں چھپا ہے — اور معیار کو خراب کرنے میں تناؤ کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔
رات کے دوران جسم کیا کرتا ہے؟
جب ہم سوتے ہیں تو جسم کا بحالی کا نظام سرگرم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر گہری نیند کے مرحلے — جسے "سلو ویو سلیپ" کہتے ہیں — میں گروتھ ہارمون خارج ہوتا ہے جو عضلات کی مرمت کرتا ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور یادداشت کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ مرحلہ نیند کے پہلے ۳ گھنٹوں میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر کارٹیسول — تناؤ کا ہارمون — رات کو بلند رہے تو یہ مرحلہ مختصر ہو جاتا ہے۔ گروتھ ہارمون کم خارج ہوتا ہے، اور جسم صبح تک مکمل بحالی حاصل نہیں کر پاتا۔
کارٹیسول کس طرح بحالی کو روکتا ہے؟
کارٹیسول ایک "الرٹ" ہارمون ہے — یہ جسم کو خطرے کے لیے تیار کرتا ہے۔ جب یہ رات کو بلند ہو تو دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ ابھی آرام کا وقت نہیں۔ نتیجتاً:
- نیند کے REM مرحلے کم اور مختصر ہوتے ہیں
- گہری نیند کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے
- بار بار جاگنے کا امکان بڑھ جاتا ہے
- صبح اٹھنے پر تھکاوٹ کا احساس باقی رہتا ہے
پاکستانی صحت ماہرین کے مطابق "نائٹ کارٹیسول سرج" — رات کو کارٹیسول کا اچانک بڑھنا — دائمی تھکاوٹ اور میٹابولک مسائل کا ایک اہم لیکن کم پہچانا گیا سبب ہے۔
شفٹ ورک اور صحت کا نظام
کراچی اور لاہور میں بہت سے مرد شفٹوں میں کام کرتے ہیں — اسپتال، کارخانے، سیکورٹی۔ ایک تحقیق میں پاکستانی صحت کارکنوں کے شفٹ کام پر جائزہ لیا گیا جس میں واضح ہوا کہ رات کی شفٹیں سرکیڈین تال کو الٹ دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے "شفٹ ورک سلیپ ڈس آرڈر" (SWSD) کی علامات — دن کو بہت زیادہ نیند آنا اور رات کو نیند نہ آنا — عام ہو جاتی ہیں۔
پاکستانی مرد اور تناؤ کی خاموشی
پاکستانی ثقافت میں مردوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تکلیف کو برداشت کریں اور شکایت نہ کریں۔ اس وجہ سے بہت سے مرد نیند کی تکلیف یا تناؤ کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ یہ خاموشی مسئلے کو اور گہرا کر دیتی ہے کیونکہ مدد نہیں مانگی جاتی۔
تحقیق بتاتی ہے کہ مرد اضطراب یا تناؤ سے متعلق علامات کم رپورٹ کرتے ہیں — حالانکہ یہی علامات دائمی نیند کی خرابی کا اصل سبب ہوتی ہیں۔
نیند کا معیار مقدار سے زیادہ اہم کیوں ہے؟
۶ گھنٹے کی گہری نیند ۹ گھنٹے کی سطحی نیند سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ گہری نیند میں:
- ٹشوز کی مرمت ہوتی ہے
- مدافعتی خلیے تیار ہوتے ہیں
- دماغ سے فضلہ صاف ہوتا ہے (گلیمفیٹک سسٹم)
- بلڈ شوگر اور میٹابولزم متوازن ہوتے ہیں
عملی اشارے جو بتاتے ہیں نیند کا معیار کم ہے
- صبح اٹھنے پر سر بھاری لگنا
- دوپہر کو بہت زیادہ نیند آنا
- چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑاپن
- میٹھا اور کیفین کی خواہش بڑھ جانا
- دفتری کام میں توجہ کا ٹوٹنا
کیا کیا جا سکتا ہے؟
اگلے مضمون میں ہم ایک مخصوص رات کا معمول پیش کریں گے جو پاکستانی شہری مردوں کی زندگی کے حقیقی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے — جس میں نماز کا وقت، شام کا کھانا اور اسکرین کا استعمال سب شامل ہیں۔